اردو ہماری قومی زبان اور پہچان

Urdu is our national language essay in Pakistan اردو ہماری پہچان

اردو پاکستان کی قومی زبان اور پاکستانیوں کی پہچان ہے۔ اردو ایک فصیح اور شاعرانہ زبان ہے اور پاکستان کی شناخت بنانے والی ثقافتوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ قومی زبان کے طور پر خدمت کرتے ہوئے، اردو اس متنوع قوم کے لوگوں کے لیے اتحاد، ثقافتی ورثے اور اجتماعی شناخت کی علامت کے طور پر کھڑی ہے۔ اس کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں جو برصغیر کی تاریخ، ادب اور اخلاقیات سے جڑی ہوئی ہیں۔ اردو کو قومی زبان کے طور پر تسلیم کرنا محض لسانی انتخاب نہیں ہے بلکہ ملک کی روح کی عکاسی ہے جو اس کے جوہر اور تنوع کو سمیٹے ہوئے ہے۔ 25 فروری 1948 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا۔ اس مضمون میں ہم اردو زبان کا گہری غور و فکر سے جائزہ لیں گے۔

اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "لشکر" کے ہیں۔ اردو زبان کی ابتدا فارسی، عربی اور مختلف علاقائی زبانوں کے امتزاج سے ماخوذ ہے اور یہ زبان مغل دور میں پھلی پھولی۔ صدیوں پر محیط اس کا ارتقاء متنوع ثقافتوں، مذاہب اور روایات کے امتزاج کو مجسم بناتا ہے۔ اردو زبان کی تاریخ بہت پرانی ہے، اُردو اپنے شروع کے ادوار میں دکنی، ہندی، ہندوی، ہندوستانی، ریختہ اور اُردوئے معلیٰ کے ناموں سے جانی جاتی رہی ہے۔ اردو کو لکھنؤ، دہلی، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بولا جاتا تھا اور یہ دکن سے لے کر پنجاب، سندھ اور بھارتی صوبے اُترپردیش کے علاقوں میں بھی بولی اور سمجھی جاتی تھی۔

اردو کا رسم الخط نستعلیق خطاطی کا ایک شاندار امتزاج ہے اور ایک فنکارانہ اظہار کی نمائندگی کرتا ہے۔ اردو کا شاعرانہ جوہر دلوں کو موہ لیتا ہے، غزلوں، نظموں اور کلاسیکی ادب کے ذریعے گونجتا ہے۔ علامہ محمد اقبال کے اشعار جو اُنھوں نے اردو شاعری کے ذریعے بیان کیے ہمارے جذبات اور عقل کو جھنجھوڑتے ہیں۔

اپنی لسانی صلاحیتوں سے ہٹ کر اُردو قوم کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اُردو صوبائی سرحدوں اور متنوع نسلوں سے بالاتر ہے۔ یہ ایک پُل کا کام کرتی ہے جو لوگوں کو کراچی سے خیبر تک ملاتی ہے، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچیوں، پختونوں، سرائیکیوں اور دیگر کو ایک مشترکہ لسانی چھتری کے نیچے متحد کرتی ہے۔ تنوع میں یہ اتحاد اردو کے ذریعے اپنا ظہور پاتا ہے اور پاکستان کی کثیر جہتی شناخت میں اپنائیت اور فخر کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔

اردو ملک کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی گفتگو کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ سرکاری مواصلات سے لے کر تعلیمی نصاب اور میڈیا تک، اردو ایک ایسے ذریعہ کے طور پر کھڑی ہے جو قومی ہم آہنگی کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ اردو پاکستان کے ثقافتی ورثے کی کھڑکی کا کام کرتی ہے۔ یہ روایات، رسم و رواج اور معاشرتی اصولوں کے جوہر کو اردو ادب میں سمیٹتی ہے۔

پاکستان میں لسانی تنوع ایک طاقت اور مسئلہ ہے۔ جہاں اردو قوم کو متحد کرتی ہے وہیں علاقائی زبانیں بھی ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں اور اپنی پہچان کے ساتھ تحفظ کی بھی مستحق ہیں۔ ہم کثیر لسانی کو فروغ دینے والے اقدامات سے ہر زبان کے منفرد ورثے کا تحفظ کر کے قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دے سکتے ہیں۔

مشہور شاعروں، نثرنگاروں، ادیبوں اور فنکاروں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے اردو کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے ثقافتی ورثہ میں اردو زبان کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ مجموعی طور پر اردو ایک متنوع اور خوبصورت زبان ہے جس کی زمینی، تاریخی اور فنی اہمیت ہے اور یہ پاکستان کے معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی تاثرات کو بیان کرتی ہے۔

اپنی اہمیت کے باوجود اردو کو جدید دور میں بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ تعلیم، کاروبار، مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور صحافت میں انگریزی زبان کا غلبہ اردو زبان کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ انگریزی کی مہارت اور اردو کی روانی کے درمیان توازن برقرار رکھنا موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اردو ہماری قومی زبان ہے اور اس کو فروغ دینا حکومتِ وقت سمیت ہر پاکستانی کا قومی فریضہ ہے کیوں کہ اردو دنیا بھر میں ہماری پہچان بھی ہے۔ 1973 کے آئین کے تحت بھی اردو زبان کو پاکستان کی سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر 1988 تک رائج کرنے کا پابند کیا گیا تھا مگر ہماری مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور عوام اردو سے انگریزی کا سفر طے کر رہی ہے۔

اردو کی ترویج اور تحفظ نہ صرف اردو زبان کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اس کے ادب میں سرایت شدہ اقدار اور روایات کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ نظام تعلیم میں اردو کو فروغ دینا اور اردو ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا اس کی مستقل ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ عوامی اور ادارہ جاتی دونوں سطحوں پر اُردُو کو فروغ دینے والے اقدامات نہ صرف اردو زبان کی تعریف کو واضح کرتے ہیں بلکہ اردو زبان کے تعارف اور خصوصیات کو تفصیل سے بیان کر کے آنے والی نسلوں کے لیے اس کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں۔

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
جدید تر اس سے پرانی